Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے پیر کو اپنے دفتر میں ڈسٹرکٹ کونسل بونیر خیبرپختونخوا کے ناظم عبید اللہ کی قیادت میں 35 رکنی وفد سےملاقات کی-  
     
  18-Feb-2019  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ بلدیاتی نظام کو بااختیار اور مضبوط کئے بغیر نہ جمہوریت مستحکم ہوسکتی ہے اور نہ ہی ملک ترقی کرسکتا ہے، ایم این اے اور ایم پی اے کے ذریعے سڑکیں تعمیر کرنے کا زمانہ چلا گیا، سیاسی رشوت کا یہ نظام اب ختم ہونا چاہئے، ملک کو اس سے بہت نقصان ہوا، انسداد تجاوزات کی کارروائی سے نقصان صرف مزدور کا ہوا، کے ایم سی نے 50 سال پہلے ایمپریس مارکیٹ کے اطراف میں لوگوں کو بٹھا کر تجارتی سرگرمیوں کو جاری رکھنا غلطی کی تھی، کوشش کرتے ہیں کہ شہر کے مسائل حل ہوں مگر صرف 2 کروڑ کے منصوبے سے 3 کروڑ لوگوں کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوسکتے جس کی ذمہ داری اب حکومت سندھ نے اپنے ذمے لے لی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوںنے پیر کو اپنے دفتر میں ڈسٹرکٹ کونسل بونیر خیبرپختونخوا کے ناظم عبید اللہ کی قیادت میں 35 رکنی وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا، وفد میں نائب ناظم اور قائد حزب اختلاف سمیت تمام پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈر اور کونسلرز شامل تھے، میئر کراچی نے کہا کہ کراچی پورے ملک کے عوام کی امیدوں کا مرکز ہے اور اس شہر سے ملک کے ہرحصے کے عوام کو کسی نہ کسی حوالے سے فائدہ ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے اس شہر کو کوئی اون نہیں کرتا اور نہ اس کے مسائل کے حل کے لئے کسی نے سنجیدہ کوشش کی، بغیر صاف کئے سیوریج اور انڈسٹریز کا پانی سمندر میں ڈالا جا رہاہے اور گندے پانی سے لوگ بیمار ہو رہے ہیں، گزشتہ کئی عشروں سے ایک بس کا اضافہ نہیں ہوا ، شہریوں کے پانی و سیوریج، ٹرانسپورٹ، صفائی، تعلیم سمیت بنیادی مسائل کے حل کے تمام اختیارات ایس ایل جی اے 2013 ء کے تحت حکومت سندھ نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، سیوریج کا پانی سڑکوں پر اور کچرے کے ڈھیر محلوں میں پڑے ہوئے ہیں ، شہر عملی طور پر تباہ ہوگیا ہے جس کا اصل نقصان پاکستان کو ہوگا، انہوںنے کہا کہ میں نے اس نظام کے خلاف عدالت عظمیٰ میں مقدمہ دائر کیا ہوا ہے جس کے فیصلے سے سارے ملک کو فائدہ ہوگا، انسداد تجاوزات کے متاثرین میں تقریباً 1450 کو متبادل دے دیا گیا ، باقی کو بھی دیں گے، میئر کراچی نے کہا کہ میں نے کراچی کا مقدمہ ہر جگہ پیش کیا ہے ، سابق وزیر اعظم نواز شریف کو مسائل سے آگاہ کیا انہوںنے ایک چھوٹا سا ترقیاتی پیکیج دیا تھا ، موجودہ وزیراعظم کے رویے سے لگتا ہے کہ وہ کراچی کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں مگر ابھی تک سامنے کچھ نہیں آیا، کراچی کے مسائل پر توجہ دینا خود حکومت کے لئے بھی ضروری ہے کیونکہ گورنر اور صدر مملکت سمیت متعدد وفاقی وزیروں کا تعلق کراچی سے ہے لوگ اب ان سے بھی سوال کریں گے کہ آپ نے کراچی کے لئے کیا کیا، میئر کراچی نے کہا کہ ماضی میں ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں ،ہم ان غلطیوں سے سیکھ رہے ہیں مگر ماضی کی حکومتوں نے کراچی کے مسائل کے حل میں ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، مشرف کے دور میں کچھ توجہ دی گئی مگر وہ بھی ناکافی تھی، انہوں نے کہا کہ میں کراچی کی جو ترقی چاہتا ہوں بحیثیت میئر وہ کرنہیں سکتا کیونکہ قانون میں میئر کے تمام اختیارات حکومت سندھ نے واپس لے لئے اور جو قانون کے مطابق دیئے تھے اس میں سے بھی انتظامی احکامات کے تحت واپس لے لئے، میئر 2 کروڑ سے زیادہ کا منصوبہ نہیں بنا سکتا تو 3 کروڑ افراد کے مسائل کیسے حل ہوں گے، ہم شہر میں کوئی سڑک تعمیر نہیں کرسکتے کہ اس میں پانی اور سیوریج کی لائنیں ہوتی ہیں ان کو ہم ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے، واٹر بورڈ حکومت سندھ کا ادارہ ہے، اس موقع پر ناظم بونیر عبیداللہ نے خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ نظام پر بریفنگ دی ، وفد کے دیگر ممبران نے سوالات کئے۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard