Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر کو ورلڈ بینک کے تین رکنی وفد نے قائد آباد تا نمائش چورنگی یلو لائن بی آر ٹی پروجیکٹ کے حوالے سے ان کے دفتر میں بریفنگ دی-  
     
  01-May-2019  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر کو ورلڈ بینک کے تین رکنی وفد نے قائد آباد تا نمائش چورنگی یلو لائن بی آر ٹی پروجیکٹ کے حوالے سے ان کے دفتر میں بریفنگ دی، اس موقع پر سینئر ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن ایس ایم طحہٰ، سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز نعمان ارشد اور سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن مسعود عالم بھی موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ یہ ایک اہم پروجیکٹ ہے اور کراچی کے شہریوں خصوصاً لانڈھی کورنگی کے صنعتی علاقوں میں کام کرنے والے افراد کو اس سے سفری سہولت فراہم ہوگی لہٰذا اس منصوبے پر تیزی سے کام ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کراچی جیسے اہم صنعتی شہر اور کمرشل کیپٹل کی صورتحال انتہائی ابتر ہوچکی، روڈ انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ نظام بدترین حالت میں ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو روزمرہ زندگی میں بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بس ریپڈ ٹرانسپورٹ منصوبے کراچی کے شہریوں کے لئے مفید ثابت ہوسکتے ہیں تاہم کسی بھی پروجیکٹ پر عملدرآمد سے قبل تمام متعلقہ چیزوں کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ بنائے جانے والے منصوبے پائیدار ثابت ہوں اورشہری طویل عرصے تک انہیں استعمال کرسکیں، میئر کراچی نے کہا کہ ہمیں ٹرانسپورٹ سسٹم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانا ہونگی بصورت دیگر شہریوں کی مشکلات کم نہیں ہوسکتیں، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی دو کروڑ سے زائد کا منصوبہ نہیں بنا سکتی، گلے سڑے سسٹم میں کام کرنا آسان نہیں، ہر جگہ کرپشن کا دور دورہ ہے ، ہر اچھے کام کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں، اللہ کرے جن کے پاس اختیار ہے وہ کچھ کریں، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ ہر وہ کام جس کے لئے ہمیں جگہ جگہ دھکے کھانا پڑتے ہیں آسانی سے کراسکیں مگر صورتحال اس کے برعکس ہے، نہ تو وہ خود کوئی کام کرتے ہیں اور نہ ہی ہمیں کرنے دیتے ہیں، بہتری کے لئے ہمیں وڈیرا ذہنیت سے چھٹکارہ پانا ہوگا کیونکہ یہ لوگ تو خود اپنے گھر کو ٹھیک نہیں کرتے اور معاملات کو جوں کا توں رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں ، شہر اور صوبے کی ترقی سے انہیں کوئی دلچسپی ہی نہیں، اندرون سندھ صورتحال اور بھی خراب ہے، سیہون میں عبداللہ شاہ نے اربوں روپے خرچ کرکے ایئرپورٹ بنوایا تھا جہاں آج تک ایک فلائیٹ نہیں اتری، بدقسمتی ملک ،صوبے اور شہر کا درد کسی کے دل میں نہیں، کراچی پورے ملک کو چلانے کے لئے ریونیو فراہم کرتا ہے مگر اس شہر کی ترقی کے لئے کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کی جاتیں، برساتی نالے صفائی کے دو مہینے کے بعد ہی دوبارہ چوک ہوجاتے ہیں، ہر سال یہی ہوتا ہے اور 50 کروڑ روپے ضائع ہوجاتے ہیں، شہر کا 60 فیصد کچرا ان نالوں میں گرتا ہے جبکہ بعض علاقوں میں یہی کچرا جلانے کی وجہ سے شہریوں کو دمے کا مرض ہو رہا ہے، صنعتی علاقوں میں خارج ہونے والے خطرناک فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانا ضروری ہے مگر اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، میئر کراچی نے کہا کہ دنیا کے دیگر ملکوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی پر کام ہو رہاہے وہاں اسمارٹ سٹی کا تصور پیش کردیا گیا جبکہ ہم ابھی تک پانی، سیوریج اور کچرے کو ٹھکانے لگانے جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں مصروف ہیں، کراچی میں اتنی زیادہ شہری ادارے لینڈ کنٹرول کررہے ہیں کہ پورے شہر میں یکساں سہولیات فراہم کرنا مشکل بن گیاہے ، بہتری لانے کے لئے ان تمام چیزوں کو یکجا کرنا اور کسی ایک ادارے کے تحت لانا ہوگاتمام تر مشکلات کے باوجود بہتری اور ترقی کے لئے ہم اپنے عزم پر قائم ہیں اور اس کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے ،میئر کراچی نے اس موقع پر افسران کو ہدایت کی کہ ورلڈ بینک کی ٹیم کے ساتھ ہرممکن تعاون کیا جائے اور تمام سہولیات فراہم کی جائیں، انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد کراچی کو ایک بہتر شہر بنانا ہے اور اس کے لئے تمام اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard