Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئرکراچی وسیم اختر نے کہا کہ آج کے ایم سی کے آٹھ بڑے اسپتالوں کے لئے تقریبا 10کروڑ روپے مالیت کے طبی آلات اور سامان کے ایم سی کے مختلف اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کیا جا رہا ہے جو 9 سال بعد خریدا گیا۔  
     
  05-Aug-2019  
     
   
     
  میئرکراچی وسیم اختر نے کہا کہ آج کے ایم سی کے آٹھ بڑے اسپتالوں کے لئے تقریبا 10کروڑ روپے مالیت کے طبی آلات اور سامان کے ایم سی کے مختلف اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کیا جا رہا ہے جو 9 سال بعد خریدا گیا۔تباہ شدہ اسپتالوں کو درست کر رہا ہوں مگر ابھی میں خود مطمئن نہیں کیونکہ اسپتالوں کی بہتری کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے،14 کروڑ روپے کی ادویات خریدی ہیں جبکہ آئندہ مالی سال کے میزانیہ میں شعبہ صحت کے لئے سب سے زیادہ بجٹ رکھا گیا ہے۔ عید سے قبل ملازمین کو تنخواہ ادا کرنا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے وزیر اعلیٰ سندھ سے درخواست ہے کہ وہ ملازمین کو عید سے قبل تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو فیڈرل بی ایریا میں کراچی انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں کے ایم سی کے 8 اسپتالوں کے لئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو طبی آلات اور سامان حوالے کرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ہمیں کے ایم سی کے اسپتال تباہ حالت میں ملے تھے، 9 سال بعد ان اسپتالوں کے لئے طبی آلات اور سامان خریدا گیا ہے، ہم نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے اسپتال کے حوالے سے ضروریات مانگی تھی ان کی فراہم کردہ فہرست کے مطابق یہ سامان خریدا گیا اس سے پہلے ان اسپتالوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی، کے ایم سی کو محدود وسائل مل رہے ہیں ان میں سے بھی پوری رقم نہیںملی اس کے باوجود ہم نے شعبہ صحت کو ترجیحات میں رکھا تاکہ اسپتالوں کی صورتحال بہتر ہوسکے۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ آج 10 کروڑ روپے کا سامان آٹھ اسپتالوں کے حوالے کیا جارہا ہے جبکہ چند ماہ قبل 14 کروڑ روپے کی ادویات خریدی گئی تھیں مگر اس کے باوجود میں خود مطمئن نہیں ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سامان ضرورت کے مطابق پورا نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ اسپتالوں کی بہتری کے لئے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے، مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ اس شعبے میں تعاون کریں۔ انہوں نے کراچی کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ سندھ حکومت کے ایم سی کی ضروریات کو پورا نہیں کررہی۔ کے ایم سی کا مطلب کراچی ہے جو پورے ملک کو ریونیو دیتا ہے۔ ہم اپنے وسائل میں جو ممکن ہے کرتے ہیں مگر شہر کی ضرورت کے لئے یہ ناکافی ہے۔ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ آوارہ کتوں کے سدباب کے لئے ہم نے کوشش کی تھی اور انڈس اسپتال کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا اور کچھ رقم بھی ادا بھی کی گئی تھی مگر وسائل نہ ہونے کے باعث اس میں مزید پیشقدمی نہیں ہوسکی۔ سندھ حکومت کے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کو اس طرف توجہ دینا چاہئے۔ کے ایم سی افرادی قوت تو فراہم کرسکتی ہے مگر ادویات کی خریداری کے لئے رقم فراہم نہیں کی جاسکتی، انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ذمہ داری حکومت سندھ کی ہے تاہم وہ وقت پر رقم فراہم نہیں کر رہی ، ایسا لگ رہا ہے کہ اس عید پر بھی ملازمین کو تنخواہ نہیں ملے گی، وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست ہے کہ اس عید سے قبل ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائیں، انہوں نے کہا کہ مویشی منڈی کا کام کے ایم سی کا ہے مگر بہت سارے ادارے یہ کام کررہے ہیں جو ریونیو کے ایم سی کو آنا چاہئے وہ لوگوں کی جیبوں میں جاتا ہے۔ لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ کو اس پر توجہ دینی چاہئے یہ اس کی ذمہ داری میں شامل ہے۔  
     
     
 
News Photo Gallery
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

 
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard