Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہمیں ایک بار پھر سندھ حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ کے ایم سی کو ایس ایل جی اے 2013 کے تحت کام کرنے دیا جائے-  
     
  06-Aug-2019  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی مکمل تعمیل کرتے ہوئے جن جن مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی وہاں سے مکمل طور پر تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا ہے تاہم جن مقامات پر رکاوٹیں حائل ہیں اس سے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا گیا ہے، کڈنی ہل پارک کی جگہ کے دعویدار اور اوورسیز کوآپریٹوز ہائوسنگ سوسائٹی کے وکلاء کی درخواست کو معزز عدالت نے مسترد کرتے ہوئے 62 ایکڑ رقبے پر محیط کڈنی ہل پارک کو بحال کرنے کے احکامات جاری کئے ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کی صبح سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، سینئر ڈائریکٹر محکمہ انسداد تجاوزات بشیر صدیقی سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے، میئرکراچی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہم نے اپنا کام پورا کرلیا ہے، پی سی ون بنائی جا چکی ہے جس پر جلد کام شروع کردیا جائے گا، کڈنی ہل پارک کراچی کے شہریوں کے لئے خوبصورت تحفہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ معزز عدالت سے درخواست کی ہے کہ سندھ گورنمنٹ کڈنی ہل پارک کے پی سی ون کے مطابق تخمینی لاگت کی ادائیگی کے لئے فنڈز فراہم کریں اور کراچی کا جو شیئر بنتا ہے وہ کے ایم سی کو دیا جائے تاکہ مستقبل قریب میں کراچی کے شہریوں کے لئے ایک بڑا خوبصورت پارک بنایا جاسکے جہاں شہریوں کو بہترین تفریحی سہولیات میسر ہوسکیں،میئر کراچی نے کہا کہ ایس ایل جی اے 2013 میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ریکوری کے محکمے حکومت سندھ نے اپنے پاس رکھ لئے یا ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز کو دے دیئے گئے جوبراہ راست حکومت سندھ کے ماتحت ادارے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس ٹیکسز کا کوئی خاص محکمہ باقی نہیں رہا لہٰذا میں ایک بار پھر سندھ حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ کے ایم سی کو ایس ایل جی اے 2013 کے تحت کام کرنے دیا جائے تاکہ شہر کے نظام میں بہتری لائی جاسکے، ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کراچی میں روزانہ ہزاروں ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے جو متعلقہ ادارے اٹھا نہیں پاتے جبکہ ان میں سے بیشتر کچرا نالوں میں ڈال دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے بار بار صفائی کے باوجود نالے اوور فلو ہوجاتے ہیں اور برسات کے بعد یہ پانی شہری آبادی کو متاثر کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے وسائل انتہائی محدود ہیں اور ہمارے پاس وہ مشینری اور ساز و سامان نہیں ہے جس کی وجہ سے شہر کو صاف کرنے اور نالوں کی صفائی ناممکن ہوجاتی ہے لہٰذا ہم نے وفاقی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ اس حوالے سے ہماری مدد کرے ، ہماری درخواست پر وفاقی حکومت نے تعاون کرتے ہوئے وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ علی زیدی کی نگرانی میں کراچی میں صفائی مہم کا آغاز کیا ہے ، وفاقی وزیر اس حوالے سے بہت محنت کررہے ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ امید ہے کہ اس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے ، وفاقی حکومت اور کراچی کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے شہر کے نالوں کو صاف کریں گے اور صفائی مہم میں بھرپور کردار ادا کریں گے اور شہری مثبت تبدیلی دیکھیں گے، ایک اور سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ کراچی سے کچرا اٹھانے کی ذمہ داری سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ہے جس کے چیئرمین وزیر اعلیٰ سندھ ہیں اس لئے صفائی ستھرائی کی ذمہ داری بھی انہی کی بنتی ہے۔اس موقع پر میئر کراچی وسیم اختر نے کڈنی ہل پارک کے لئے بنائے گئے مجوزہ سائٹ پلان کے بارے میں میڈیا کے نمائندوں کو بریف بھی کیا۔  
     
     
 
News Photo Gallery
 
 
 
 
 
 
 

 
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard