Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ کراچی کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو گیا شہر کو آفت زدہ قرار دے کر لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔  
     
  11-Aug-2019  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ کراچی کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو گیا شہر کو آفت زدہ قرار دے کر لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔ ایک ہزار ارب سے زیادہ فنڈز درکار ہے۔ پی ڈی ایم اے اور ایم ڈی ایم اے کسی علاقے میں نظر نہیں آئے فوج سے درخواست کرتا ہوں کہ نشیبی علاقوں کی رہائشیوں کی مدد کی جائے، جہاں ادارے نہیں پہنچ سکتے وہاں پہنچ کر لوگوں کو ریسکیو کریں ابھی تک 27 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ملی ہے فوری کارروائی نہ کی گئی تو زیادہ جانی و مالی نقصان کا خطرہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو شہر کے مختلف علاقوں کے دورے کے بعد کار ساز روڈ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کل ہم نے پورے شہر کا دورہ کیا تھا وفاقی وزیر بھی ساتھ تھے کراچی شہر میں آج جو تباہی ہوئی ہے اس کی کچھ وجوہات ہیں۔اس شہر کے انفرا اسٹرکچر پر دس بارہ سال سے کوئی کام نہیں ہوا جس کی وجہ سے یہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا۔شہر کی اہم سڑک شارع فیصل چھ سات جگہوں سے پانی میں ڈوبی ہوئی ہے ، یہ کراچی کے انفرااسٹرکچر کا فیلیئر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیو کراچی، سرجانی، ملیر لانڈھی و دیگر نشیبی علاقے تباہی کا منظر پیش کررہے ہیںجبکہ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق 27 افراد ہلاک ہو چکے ہیں میں وزیر اعلی سندھ سے درخواست کرتا ہوں کہ کراچی کو آفت زدہ شہر قرار دے کر ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے۔کراچی صوبے کو پالتا ہے اس کا کوئی پرسان حال نہیں کل عید کی نماز ہے لوگ عید کی نماز کہاںپڑھیں گے اور قربانی ہے کہاں کریں گے ، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نہ خود کچھ کرتی ہے اور نہ ہی کرنے دے رہی ہے بلدیہ ٹاون جاکر دیکھا وہاں لوگ نماز نہیں پڑھ سکتے براحال ہے۔ میں دو دنوں سے شہر کے ہر علاقے میں گیا ہوں۔ کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے جو اقدامات ہونے چاہئیں ویسے نہیں ہیں، کراچی کو ہزار ارب سے زیادہ فنڈز درکار ہے۔سڑکیں بنانا بے سود ہے اس وقت انفراسٹرکچر اور سیوریج کے نظام کی درستگی کی ضرورت ہے، تین سال سے مسلسل چیخ رہا ہوں کہ جب تک سیوریج اور نالے ٹھیک نہیں ہوتے شہر میں پچاس کروڑ کی جگہ پچاس ارب بھی لگیں توکچھ نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا کہ یہاں پولیو، ہیپاٹائٹس پھیل رہا ہے اب بہت ہوچکا ہے زیادتی بند کی جائے، شارع فیصل چھ جگہ سے ڈوبا ہوا ہے کراچی کا پیسہ کہاں جارہا ہے شارع فیصل پر تعمیر نیا انڈر پاس ڈوبا ہوا ہے میرین انڈر پاس ڈوب گیا ہے میرے پاس پاور اور وسائل نہیں ہیں میں صرف نشاندہی کرسکتا ہوں جن کے پاس پاور ہے وہ تو کچھ نہیں کر رہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کو کراچی کا خیال نہیں، کراچی والے کل نماز نہیں پڑھ سکیں گے، قربانی نہیں کرسکیں گے ،کوئی تو کراچی کی ذمہ داری لے، بارشوں میں کرنٹ لگنے سے27افراد جاں بحق ہوگئے، کراچی کو بے یارومددگارچھوڑدیاگیا ہے۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard