Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  پیر کے روز ڈاکٹر سعید اختر کی قیادت میں میئر کراچی سے فریئر ہال میں ملاقات کی  
     
  01-Jun-2020  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کے ایم سی اور ڈی ایم سیز سے تیزی سے ریٹائر اور انتقال کرجانے والے ملازمین کی وجہ سے پینشن کا والیم بڑھ رہا ہے اور اس ماہ سے 24 ملین روپے اس سلسلے میں مزید درکار ہوں گے انہوں نے کہا کہ کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے 22 ہزار ریٹائر ملازمین کو 31 کروڑ 70 لاکھ روپے ہر ماہ پینشن کی مد میں ادا کئے جا رہے ہیں یہ بات انہوں نے میڈیکل ڈپارٹمنٹ کے ریٹائر ملازمین کے ایک وفد سے ملاقات کے موقع پر کہی جنہوں نے پیر کے روز ڈاکٹر سعید اختر کی قیادت میں میئر کراچی سے فریئر ہال میں ملاقات کی ،اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سید ارشد حسن، میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، مشیر مالیات ریاض کھتری ، سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم جمیل فاروقی، مشیر قانون عذرا مقیم، ڈائریکٹر ویلفیئر محمود بیگ اور دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے، وفد نے میئر کراچی کو میڈیکل ڈپارٹمنٹ کے ریٹائر ہونے والے ملازمین کے مسائل سے آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ ملازمین اپنے بقایاجات کے منتظر ہیں لیکن تاحال ان ملازمین کے بقایا جات کی ادائیگی کی کوئی صورتحال نظر نہیں آتی، پہلے ملازمین کو لیف انکیشمنٹ دے دیا جاتا تھا لیکن گزشتہ سال ستمبر کے بعد سے یہ بھی بند کردیا گیا ہے اس سے ریٹائر ملازمین کو انتہائی مالی مشکلات کا سامنا ہے، میئر کراچی نے کہا کہ حکومت سندھ گزشتہ چار سالوں سے پینشن کی مد میں 215 ملین روپے ادا کر رہی ہے لیکن اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ ہر ماہ 15 سے 20 ملازمین کے ایم سی اور ڈی ایم سیز سے ریٹائر ہوجاتے ہیں جبکہ بیماری کے باعث یا حادثاتی طور پر انتقال کرجانے والے ملازمین الگ ہیں جنہیں فیملی پینشن ادا کرنی ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ 2018 کے بعد سے لیف انکیشمنٹ کی مد میں 25کروڑ روپے واجب الادا ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو متعدد بار خط لکھے اور وزیراعظم بھی کو اس مسئلے سے آگاہ کیا لیکن تاحال دونوں حکومتوں کی جانب سے کسی قسم کا کوئی فنڈ کے ایم سی کو موصول نہیں ہوا، انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ سال ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافہ کیا تھا لیکن یہ اضافی شدہ رقم بھی کے ایم سی کو فراہم نہیں کی جارہی، تنخواہوں کی مد میں کے ایم سی کو 12 سے 15 کروڑ روپے ہر ماہ کم پڑتے ہیں جو اپنے ریسورس سے جمع کرکے ادا کئے جا رہے تھے لیکن کورونا وائرس کی وباء کے باعث گزشتہ ڈھائی ماہ سے شہر کو لاک ڈائون کا سامنا ہے جس کے باعث کے ایم سی کا ریونیو نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ کے ایم سی شدید مالی بحران کا شکار ہے اور کے ایم سی کو اگر فوری فنڈ فراہم نہ کئے گئے تو کے ایم سی کے ملازمین کو تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی ناممکن ہوجائے گی، وفد کے ارکان میں میئر کراچی کو بتایا کہ میڈیکل ڈپارٹمنٹ ساڑھے 3ہزار کے قریب ملازمین ہے جو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اس وقت فرنٹ لائن پر کام کر رہے ہیں، کے ایم سی کے تمام 14 بڑے اسپتال فعال ہیں اور شہریوں کے علاج معالجے میں اپنی استعداد کے مطابق بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ وہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے ۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard