Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ سندھ حکومت فوری طور پر سینٹرل ہیلپ لائن قائم کریجس کے تحت، ڈاکٹروں، مریضوں اور ان کے لواحقین کویہ پتہ چل سکے کہ کس اسپتال میں مریضوں کے لئے بیڈ اور وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں-  
     
  05-Jun-2020  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ سندھ حکومت فوری طور پر سینٹرل ہیلپ لائن قائم کریجس کے تحت، ڈاکٹروں، مریضوں اور ان کے لواحقین کویہ پتہ چل سکے کہ کس اسپتال میں مریضوں کے لئے بیڈ اور وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں، فوری طبی امداد کے منتظر مریضوں کو ان کے لواحقین جگہ جگہ لئے پھرتے ہیں، لیکن انہیں کوئی رہنمائی فراہم نہیں کی جاتی کہ وہ مریض کو لیکر کہاں جائیں، ، یہ بات انہوں نے کورونا وائرس کے حوالے سے کے ایم سی کے اسپتالوں میں انتظامات اور ضروریات کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، میئر کراچی نے کہا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے کوئی میکنیزم موجود نہیں ہیاور اب تک کوئی ایسی ہیلپ لائن نہیں بن سکی جس پر ڈاکٹرز یا مریضوں کے لواحقین فون کرکے معلوم کرلیں کہ کن اسپتالوں میں کتنے بیڈز خالی ہیں اور سیریس مریضوں کو کس اسپتال میں بھیجا جائے، انہوں نے کہا کہ کراچی میں قائم مختلف کلینکس میں ہر روز 6 سے 7 مریض لائے جارہے ہیں، ڈاکٹرز چیک کرنے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن انہیں کہیں سے بھی کوئی رہنمائی نہیں ملتی، میئر کراچی نے کہا کہ اسپتالوں کے درمیان کوآرڈینیشن قائم کرنے اور اسپتالوں میں گنجائش کی اطلاع دینے کے لئے ایک سینٹرل ہیلپ لائن کا قائم کرنا انتہائی ضروری ہے، میئر کراچی وسیم اختر نے کراچی میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور شہریوں سے پُرزور اپیل کی ہے کہ وہ تمام تر احتیاطی اقدامات پر عمل کریں اگر کورونا وائرس سے بچنے کے حفاظتی اقدامات پر پورے طریقے سے عمل نہیں کیا گیا اور لوگوں کا رویہ یہی رہا تو کراچی میں بہت بڑی تعداد میں لوگ کورونا وائرس میں مبتلا ہوجاہیں گے، میئر کراچی نے کہا کہ مارکیٹیں، شاپنگ مالزاور پبلک ٹرانسپورٹ کھلنے کے بعد صورتحال انتہائی سنگین ہوتی جارہی ہے اور پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز چین سے بھی بڑھ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹس کے نتیجے میں زیادہ تر افرادکا ٹیسٹ مثبت آرہا ہے اس کے باوجود شہری احتیاط کا دامن تھامنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے حوالے سے تشویشناک صورتحال ہے اور لوگ اس وباء کو تمام تر ہلاکتوں کے باوجود سنجیدہ نہیں لے رہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں بھی صورتحال خوفناک ہوتی جا رہی ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ تاجروں کی ایسوسی ایشنز اور انجمنوں نے دکانیں اور مارکیٹیں کھلنے کی صورت میں ایس او پیز پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہورہا۔ پبلک ٹرانسپورٹ چلنے کے بعد تین دنوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہری بغیر کسی احتیاطی تدابیر کے سفر کررہے ہیں جو ان کے لیے اور ان کے خاندان کے افراد کیلیے انتہائی خطرناک ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ ڈاکٹرز اور ماہرین صحت بار بار کورونا وائرس کے خطرے سے آگاہ کر رہے ہیں لیکن کوئی بھی اسے سنجیدہ لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی تمام ہسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں اور خدا نخواستہ ہسپتال آنے والے مریضوں کی یہی صورتحال رہی تو وہاں علاج معالجے کی سہولتیں دستیاب نہیں ہوسکیں گی۔ میئر کراچی نے اجلاس میں ملک بھر کے تمام ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا کہ وہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر شہریوں کو طبّی سہولتیں فراہم کررہے ہیں اور کئی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف اپنی جانوں کی قربانی بھی پیش کرچکے ہیں۔میئر کراچی نے کہا کہ عباسی شہید ہسپتال اور کارڈیک سینٹر لانڈھی میں مریضوں کو آئسولیٹ کرنے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، سندھ حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ اگر وہ کورونا وائرس کی کٹس فراہم کرے تو شہریوں کا بغیر کسی معاوضے کے کورونا ٹیسٹ ممکن ہو سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے تیسرے بڑے ہسپتال عباسی شہید ہسپتال کے پاس انفراسٹرکچر،قابل ترین پروفیسرز، ڈاکٹرز اور تجربہ کار پیرا میڈیکل اسٹاف موجود ہے جو کراچی کے ایک بڑے حصے کو کور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث یہ ہسپتال کورونا وائرس وباء کے سلسلے میں فعال نہیں ہوسکا ہے۔تاہم فلٹر کلینکس کے زریعے مریضوں کی رہنمائی اور علاج جاری ہے میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی نے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو حفاظتی لباس فراہم کیے ہوئے ہیں جو مختلف این جی اوز کی جانب سے کے ایم سی کو دیے گئے تھے۔ میئر کراچی نے کراچی کے شہریوں سے ایک بار پھر اپیل کی کہ وہ خدارا اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں اور گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک، دستانے اور سینیٹائزر کا استعمال کریں اور ایک دوسرے سے جسمانی فاصلے کو برقرار رکھیں تاکہ یہ وائرس ایک سے دوسرے شخص میں منتقل نہ ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ جن افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے وہ اپنے اپنے گھروں میں اپنے آپ کو آئسولیٹ کرلیں تاکہ دوسرے افراد اس سے محفوظ رہ سکیں۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard