Home  
    Administrator  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ پاکستان میں کم و بیش 33 فیصد بچے جبری مشقت کا شکار ہیں، غربت، بیروزگاری، مہنگائی اور تعلیم کی کمی نے بچوں کو اسکولوں سے دور کردیا ہے-  
     
  12-Jun-2020  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ پاکستان میں کم و بیش 33 فیصد بچے جبری مشقت کا شکار ہیں، غربت، بیروزگاری، مہنگائی اور تعلیم کی کمی نے بچوں کو اسکولوں سے دور کردیا ہے اور تعلیم ان کے لئے ایک خواب بن کر رہ گئی ہے، پاکستان میں ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد بچے جبری مشقت کررہے ہیں اور ان کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے جو انتہائی تشویش ناک ہے، یہ بات انہوں نے جمعے کے روزبچوں سے مشقت کے عالمی دن کے موقع پر بچوں کی فلاح و بہبود اور صحت و مسرت کے لئے کام کرنے والی این جی اوز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کورونا وائرس وباء کی وجہ سے غیر محفوظ ہو کر رہ گئی ہے اور ہر عمر کے لوگوں کو کورونا وائرس اپنا شکار بنا رہا ہے اور اب تک لاکھوں افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں، ان میں بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں بچوں کو جبری مشقت سے نجات دلاتے ہوئے شہریوں میں یہ شعور اجاگر کرنا ہے کہ وہ ان کی فلاح و بہبود صحت اور تعلیم کے لئے اقدامات کریں، Covid-19 میں بچوں کو مشقت سے بچانا جتنا اب ضروری ہے اتنا پہلے کبھی نہیں تھا، انہوں نے کہا کہ بچے سڑکوں، بازاروں اور فیکٹریوں میں مزدوری کرتے ہوئے حفظان صحت کے اصولوں سے نا آشنا ہونے کے باعث بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں، گندے پانی کے فضلات کی وجہ سے مزدوری کرنے والے 80فیصد سے زائد بچے ہیپا ٹائٹس اور دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ بچوں کے ہاتھوں میں کتابوں کے بجائے اوزاروں کا نظر آنا اور انہیں کام کرنے پر مجبورکرنا ہمارے معاشرے کے لئے ایک المیہ ہے، میئرکراچی نے کہا کہ بچوں سے جبری مشقت کو ہمارے معاشرے میں معیوب نہیں سمجھا جاتا اور اکثر بچے ہوٹلوں، چائے خانوں، مارکیٹوں، فیکٹریوں، موٹر گاڑیوں اور پیٹرول پمپوں سمیت بہت سی جگہوں پر مشقت کرتے نظر آتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چلڈرن ایکٹ 1991 اور ایمپلائز آف چلڈرنز رولز 1995 جیسے قوانین نافذ ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا، میئر کراچی نے کہا کہ گھروں میں کام کرنے والے بچوں پر تشدد کے واقعات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں لیکن اسکی روک تھام کے لئے کچھ نہیں کیاجاتا، جس کے باعث بچوں پر تشددکا رجحان بڑھتا جارہا ہے، میئر کراچی نے کہا کہ اگر ان بچوں کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی نشونما نہیں کی جائے گی تو مستقبل میں یہ مفید شہری ثابت نہیں ہوسکیں گے، انہوں نے کہا کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اورہم اپنے ہاتھوں سے اپنا مستقبل برباد کررہے ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ فوری طور پر ملک سے چائلڈ لیبر ختم کرنے کی ضرورت ہے اور ہر بچے کا اسکول جانا لازمی قرار دیا جانا چاہئے، میئر کراچی نے کہا کہ بچوں سے محنت و مشقت لینے کے بجائے ان کی تعلیم و تربیت اور صحت کے لئے ان کے والدین کو سرکاری سطح پر معاونت کی جائے اور ملک سے چائلڈ لیبرکا خاتمہ کیا جائے، میئر کراچی نے کہا کہ کم و بیش دنیا بھر سے چائلڈ لیبر کو ختم کردیا گیا ہے لیکن پاکستانی معاشرے میں یہ سلسلہ ختم ہونے کے بجائے بڑھنا جارہا ہے۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard