Home  
    Administrator  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ سندھ اگر پیپلز پارٹی کی ماں ہے تو پاکستان ہماری ماں ہے ہم اپنی ماں کے ٹکڑے نہیں کرنے دیں گے-  
     
  23-Aug-2020  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ سندھ اگر پیپلز پارٹی کی ماں ہے تو پاکستان ہماری ماں ہے ہم اپنی ماں کے ٹکڑے نہیں کرنے دیں گے، ضلع غربی میں پیپلز پارٹی کے پاس صرف چار یونین کونسلیں ہیں، ضلع بنانے کے لئے انہوں نے آبادی کو کس طرح گنا یہ کسی کو بھی نہیں پتہ، وہ سارے علاقے جہاں سے ریونیو حاصل ہوتا ہے وہ ضلع کیماڑی میں شامل کردیئے ہیںاور اس کا مقصد صرف پیسے کمانا اور سیاسی فائدہ اٹھانا ہے، یہ بات انہوں نے اتوار کے روز اورنگی ٹائون میں 20 کروڑ روپے کی لاگت سے 4 ترقیاتی اسکیموں کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اس سے قبل میئر کراچی ، وفاقی وزیر سید امین الحق کے ہمراہ اورنگی ٹائون پہنچے تو لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کی بلدیاتی کمیٹی کے انچارج شیخ صلاح الدین، ورکس کمیٹی کے ایم سی کے چیئرمین حسن نقوی، یوسی چیئرمین، منتخب بلدیاتی نمائندے اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، میئر کراچی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ کے ایم سی کے پاس اختیارات نہیں تھے اس لئے کے ایم سی کام نہیں کرسکی، انہوں نے کہا کہ جہاں تک کام کرنے کی بات ہے اگر اختیار ہوتا اور کام نہ کرتے تو آج عوام کے درمیان نہ ہوتے، ہمیں اگر فنڈز فراہم کئے جاتے اور ہمارے اختیارات کو سلب نہ کیا جاتا تو آج کراچی کی صورتحال بہت بہتر ہوتی، وفاقی حکومت کراچی کی ترقیاتی اسکیموں کے لئے ایک ارب روپے فراہم کئے ہیں جس سے یہ ترقیاتی کام کروائے جا رہے ہیں، وہ محکمے حکومت سندھ نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جن سے پیسے بن سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ضلع کیماڑی بناتے وقت کسی سے بھی مشورہ نہیں کیا گیا ، ضلع غربی کے چیئرمین سے بھی کوئی رائے نہیں لی گئی اور اس ضلع کی عوام کو بھی اس فیصلے میں شامل نہیں کیا گیا، اگر ضلعے بنانے ہیں تو عوام سے پوچھ لو کہ عوام کیا چاہتی ہے، عوام کا ریفرنڈم کرائو سب معلوم ہوجائے گا، آئین میں گنجائش موجود ہے تو پھر صوبہ بنایا جائے، انہوں نے کہا کہ 1971ء میں پیپلزپارٹی نے کیا تھا سب کو پتہ ہے، میئر کراچی نے کہا کہ اس تاریخ کو اب دوہرانے نہیں دیا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ حکومت نے آبادی کو کیسے گنا اگر آبادی زیادہ ہوگئی ہے تو ثابت ہوا کہ مردم شماری غلط ہوئی، میئر کراچی نے کہا کہ جمہوریت وہ ہوتی ہے جس میں سب کو ساتھ لے کر چلا جاتا ہے اور ایک دوسرے کے اختیارات اور حقوق پر ڈاکے نہیں ڈالے جاتے ، انہوں نے کہا کہ کراچی کا بلدیاتی نظام مضبوط ہوگا تو یہ شہر ترقی کرے گا، کراچی کے تمام محکمے میئر کے ماتحت ہونے چاہئیں اور پولیس بھی میئر کے ماتحت ہو، جب تک حکومت سندھ کی جانب سے ناجائز طور پر قبضہ کئے گئے تمام محکمے منتخب میئر کو نہیں دیئے جاتے کراچی کے حالات کسی بھی صورت بہتر نہیں ہوسکتے، عوام کراچی کو میٹروپولیٹن شہر کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہماری چار سالہ مدت مکمل ہو رہی ہے لیکن ایم کیو ایم پاکستان یہاں موجود ہے،انہوں نے کہا کہ جن اسکیموں کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے وہ ہر صورت میں مکمل کی جائیں گی، وفاقی حکومت کے فراہم کردہ فنڈز سے آج اورنگی ٹائون میں چار اسکیمیں شروع کی جارہی ہیں ان میں شاہراہ اورنگی اور شاہراہ قذافی کی تعمیر شامل ہے، سڑک بنانے سے پہلے سیوریج کی لائنوں کو تبدیل کیا جا رہا ہے اور 20 کروڑ روپے کی لاگت سے یہ اسکیمیں چار ماہ کی مدت میں مکمل کریں گے، انہوں نے کہا کہ جہاں تجاوزات ہیں وہ ختم کی جائیں گی اور جن لوگوں نے تجاوزات قائم کی ہوئی ہیں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ازخود اپنا بندوبست کرلیں تاکہ انہیں کسی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس موقع پر وفاقی وزیر سید امین الحق اور میئر کراچی وسیم اختر کو چاروں منصوبوں سے متعلق نقشوں اور چارٹس کی مدد سے بریفنگ دی گئی۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard