Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے سو روزہ صفائی مہم کے اختتام پر کے ایم سی بلڈنگ میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا-  
     
  10-Mar-2017  
     
   
     
  یئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی کو اس کے حقوق دلانے کے لئے صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت سے مسلسل رابطوں کے بعد اب فیصلہ کیا ہے کہ میں ان سے مزید کوئی گزارش نہیں کروں گا بلکہ سپریم کورٹ جانے کی تیاری کر رہا ہوں کیونکہ سپریم کورٹ نے ہی بلدیاتی انتخابات کرائے تھے جن پر اربوں روپیہ خرچ ہوا لہٰذا آئین کے آرٹیکل 140-A کو بچانے کے لئے میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائوں گا اور میں تنہا نہیں ہوں اندرون سندھ سے پیپلز پارٹی کے منتخب بلدیاتی نمائندوں نے بھی مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی میری طرح بے اختیار ہیں اور وہ میرا ساتھ دیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سو روزہ صفائی مہم کے اختتام پر کے ایم سی بلڈنگ میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی ڈاکٹر ارشد عبداللہ وہرہ، بلدیہ وسطی کے چیئرمین ریحان ہاشمی، وائس چیئرمین شاکر علی، بلدیہ شرقی کے چیئرمین معید انور، وائس چیئرمین شرقی عبدالرائوف ، بلدیہ کورنگی کے چیئرمین سید نیئر رضا ، وائس چیئرمین ضلع جنوبی منصور شیخ، بلدیہ غربی کے ایڈمنسٹریٹر ، میونسپل کمشنر حنیف محمد مرچی والا، مشیر مالیات خالد محمود شیخ اور سینئر افسران کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی، میئر کراچی نے کہا کہ اس سو روزہ صفائی مہم میں ہم نے کراچی کی 21منتخب یوسیز میں صفائی مہم کا اعلان کیا تھا ، ہمارے دستیاب وسائل، محنت اور تندہی کی بات کی جائے تو ان 100روز میں ہماری کارکردگی کو 100میں سے100نمبر دئے جانے چاہئیں۔ 100روزہ مہم کا اعلان کرنے کے بعد صوبائی اور وفاقی حکومت کا یہ فرض تھا کہ وہ کراچی کے شہریوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے وسائل دیتے لیکن ہوا اس کے برعکس ۔ اس مہم کو ناکام بنانے کے لیے سرخ فیتے کا سہارا لیا گیا۔ میئر کی ناکامی دراصل وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کی ہی ناکامی ہے۔ اگر ہمیں کراچی کے جائز حق کے مطابق وسائل دیئے جاتے تو اس 100روزہ مہم میں ہم محض 21یوسیز میں نہیں بلکہ آدھے سے زیادہ کراچی شہر میں تاریخی کام انجام دے چکے ہوتے۔ انہوں نے سو روزہ مہم کے دوران ضلع وسطی، شرقی، جنوبی، کورنگی، ملیر اور ضلع غربی میں واقع یوسیز میں انجام دیئے گئے صفائی ستھرائی ، سڑکوں کی استرکاری، جراثیم کش اسپرے اور دیگر کاموں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کراچی کی بہتری اور ترقی کا نکتہ آغاز ہے یہ سفر اب رکے گا نہیں بلکہ جاری و ساری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی میں بحیثیت میئر ذمہ داریاں سنبھالنے پر میں نے ادارے کو شدید مالی بحران میں مبتلا اور خود کو بے اختیار پایا، صورتحال اس قدر خراب تھی کہ شہریوں کے مسائل کے حل اور تعمیر وترقی کے کام کرنا تو درکنار ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن کی بروقت ادائیگی تک دشوار بن چکی تھی پھر بھی اس امید پر میں نے وزیر اعلیٰ اور وزیر بلدیات سے متواتر رابطے کئے اور انہیں حقائق سے آگاہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ شہر کے درد کو محسوس کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کا احساس اور شہر یوںکے مسائل کے حل میں تعاون کریں گے۔میں نے اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان ، وزیر اعلیٰ سندھ ، وزیر بلدیات سے کراچی کی بہتری اور کے ایم سی کو مالی بحران سے نکالنے کے لئے فنڈز اور گرانٹ ان ایڈ جاری کرنے کی درخواست کی مگر افسوس کے ان تمام گزارشات کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ میئر کراچی نے کہا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود ہم کراچی کو ایک بہتر شہر بنانے کے لئے کام کرناچاہتے ہیں لیکن مجھے کام کرنے سے روکا جا رہا ہے اور مالی وسائل کو محدود کرکے میرے اختیارات پر قدغن لگائی جا رہی ہے جس سے شاید مجھے تو نقصان نہ پہنچے مگر شہر کراچی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ کسی پارٹی کے خلاف دشمن پالیسی نہیں بلکہ کراچی کے عوام کے خلاف دشمن پالیسی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سندھ سے اپنے منصفانہ مالی حقوق دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور میں اپنے اس حق کے لئے آخری حد تک جائوں گا چاہے مجھے اس کے لئے وفاقی حکومت سے رجوع کرنا پڑے یا ملک کی اعلیٰ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد اب میں آپ کے سامنے یہ تمام حقائق لے کر حاضر ہوگیا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی بیان دینا بڑا آسان ہے 2013ء ایکٹ کا حوالہ دے کر عوام کو گمراہ نہ کیا جائے کہا جاتا ہے کہ ہمیں 50 کروڑ دے رہے ہیں ، ایکٹ میں رہتے ہوئے جو محکمے موجود ہیں ان سے کام لو ، سوال یہ ہے کہ سندھ حکومت کے زیر انتظام محکمے کونسا صحیح کام کر رہے ہیںیا وہاں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں اگر ہمیں اختیارات مل جائیں تو ہم واقعی کراچی کو بنا کر دکھا دیں گے اور آپ کو بتا دیں گے کہ کام کیسے کئے جاتے ہیںانہوں نے کہاکہ سو دن مکمل ہونے کے بعد بھی ہم رکیں گے نہیں بلکہ مزید فعال ہوں گے جہاں جہاں کام کرنا باقی ہے ہم اسے مکمل کرکے رہیں گے ۔ میئر کراچی نے کہا کہ ہم نہ تو کچھ چھپانا چاہتے ہیں اور نہ ہی کاسمیٹک کام کریں گے بلکہ اصل چہرہ اور زمینی حقائق سے میڈیا کو آگاہ کر رہے ہیں ، تنقید بے شک کریں مگر یہ ضرور دیکھ لیا جائے کہ موجودہ اختیارات اور وسائل میں رہتے ہوئے ہماری پوری ٹیم نے بھرپور کام کیااور ہم کم از کم شہر کو بہتر بنانے کی کوشش تو کررہے ہیں ، کراچی کے عوام نے ہمیں جو مینڈیٹ دیا ہے اس کے تحت ہم گھروں میں نہیں بیٹھے بلکہ سڑکوں پر نکل کر کام کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر صرف سیاسی بیانات دے کر کے ایم سی یا منتخب لوگوں کو ناکام بنانے کی کوشش کی جائے اور اگر خدانخواستہ ہم ناکام ہوئے تو میں نہیں آپ خود ناکام ہو رہے ہیں، ماضی میں فنڈز کا درست استعمال نہیں ہوا میں اور میری پوری ٹیم شہر میں جاری ہر منصوبے پر جا کر کھڑی ہو رہی ہے خواہ وہ منصوبہ صوبائی اے ڈی پی سے ہو رہا ہو یا ڈسٹرکٹ اے ڈی پی سے ، صرف ٹھیکے دینے سے کام نہیں ہوتے بلکہ ٹھیکیدار کے ساتھ جا کر کھڑا ہونا پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹھیکے دینے سے کوئی دلچسپی نہیں مگر کم از کم ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونے والا پیسہ ضائع نہیں ہونا چاہئے، کراچی کے لوگوں نے ہمیں جو ووٹ دیا ہے ہم نے اس کا حق ادا کیا ہے غلط کام نہیں ہونے دیں گے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے زیادہ ذمہ دار وزیر اعلیٰ سندھ کی ہے انہیں پورے سندھ کا بجٹ ملتا ہے ، کراچی میں کام ہوگا تو انہی کو کریڈٹ ملے گاکہ سندھ میں کام ہو رہا ہے ہم ان کے نام سے یہ دھبہ مٹانا چاہتے ہیں، انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس جس قسم کے وسائل اور اختیارات ہیں ان میں اسی قسم کے چھوٹے چھوٹے کام کراسکتے ہیں حالانکہ کراچی کی ضروریات اس سے کہیں زیادہ ہے ، اس شہر کو میگا پروجیکٹس کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کو سپریم کورٹ چلا رہا ہے ، سندھ حکومت اور انتظامیہ کہاں ہے۔ سندھ کے لئے گزشتہ آٹھ سال میں ایک ہزار ارب روپیہ جاری ہوا چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی بتا دے یہ روپیہ کہاں لگا ہے یہ لوگ تو ٹھیکہ دے کر اوطاق میں یا دبئی اور لندن چلے جاتے ہیں اور لوگ ہمیں آکر بتاتے ہیں کہ وہاں کیسا غلط کام ہو رہا ہے ترقیاتی کام ایسے نہیں ہوتے نہ ہی ہم اب مزید ایسا ہونے دیں گے۔ ہم عوام کے نمائندے ہیں جب تک سو فیصد کام ٹھیک طرح نہیں ہوگا ہم اسے مکمل ہونے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب اوپن ٹینڈر ہوگا اور کام کے معیار کو چیک کیا جائے گا جو ہوگیا سو ہوگیا آئندہ کوئی غلط کام نہیں ہونے دوں گا، انہوں نے کہا کہ لوگ ہمارا ساتھ دے رہے ہیں مخیر طالب علم، نوجوان، سب ہمارے ساتھ ہیں کیونکہ وہ اصلیت جانتے ہیں ، ہم نے اس کام کو ایک چیلنج کے طور پر لیا ہے ہمت نہیں ہاریں گے ثابت کریں گے کہ یہ شہر ہمارا ہے ہم اس کے اونر ہیں اور اسی منتخب ٹیم کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے، اختیارات نہیں تو کوئی پروا نہیں ہمیں سب کچھ نظر آرہا ہے اگر اسی طرح فنڈز کی تقسیم ہوگی اور PFC کو نظر انداز کیا گیا تو جمہوریت کمزور ہوگی اور سیاسی لیڈر کمزور ہوں گے، انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس کراچی کا مینڈیٹ نہیں وہ بھی قبضہ گروپ کی صورت تمام اختیارات اپنے پاس رکھے بیٹھیں ہیں، نہر خیام بننے جا رہی ہے وہاں سے تمام تجاوزات ختم کردیں ہیں اگر کوئی مجھے اس کام سے روکنا چاہتے ہے تو سن لے اسے ناکامی ہوگی۔ 50 لاکھ روپے سے میئر اور ڈپٹی میئر کے لئے گاڑیاں لینے کی پیشکش کی گئی مگر میں نے کہا کہ اس رقم سے فوڈ لیبارٹری کو بحال کردو، آٹھ سال کا بیک لاگ ہے کچرے کو اٹھانے کے ساتھ محکموں اور ان کے افسران کو بھی ٹھیک کررہا ہوں ، ہماری حالت یہ ہے کہ چادر تنگ ہے سر ڈھکتے ہیں تو پیر ننگے ہوجاتے ہیں۔ ہم ناکام نہیں بلکہ کامیاب ہوئے ہیں۔ اگر سندھ حکومت کام کر رہی ہوتی تو آج میں یہ پریس کانفرنس نہیں کر رہا ہوتا ، نہ یہ مجھ کام کرنے دیتے ہیں اور نہ ہی خود کام کرتے ہیں ، میں انہیں یہ کہتا ہوں کہ عوام کے لئے کام کروں گے تو کوئی تمہیں اپنی کرسی سے نہیں ہٹا سکتا۔  
     
     
 
News Photo Gallery
 
 
 
 
 
 
 

 
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard