Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اجلاس میں اراکین کونسل نے اتفاقِ رائے سے منظور کی جانے والی قرارداد کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک کی نجکاری ختم کرکے اسے قومی تحویل میں دیا جائے-  
     
  09-May-2017  
     
   
     
  بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اجلاس میں اراکین کونسل نے اتفاقِ رائے سے منظور کی جانے والی قرارداد کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک کی نجکاری ختم کرکے اسے قومی تحویل میں دیا جائے جبکہ حکومت اور نیپرا کے ۔الیکٹرک کی کراچی کے عوام کے ساتھ زیادتیاں روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔بلدیہ عظمیٰ کراچی کا اجلاس منگل کی سہہ پہر کے ایم سی بلڈنگ میں ڈپٹی میئر کراچی ڈاکٹر ارشد عبداللہ وہرہ کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں مجموعی طور پر بارہ قراردادوں کی منظوری دی گئی جس میں چھ قراردادوں کو اتفاق ِ رائے جبکہ بقیہ چھ قراردادوں کو کثرت ِ رائے سے منظور کیا گیا جبکہ آئندہ اجلاس بروز منگل 16؍ مئی تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر رکن بلدیہ عظمیٰ کراچی عبدالطیف مغل اور سابق صوبائی وزیرخواجہ محمداعوان کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی گئی۔اجلاس میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی قراردادوں میں کے۔الیکٹرک کی نجکاری ختم کرکے اسے قومی تحویل میں لینے، مختلف رولز کو انگریزی سے اردومیں ترجمہ کرنے، مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے تمام اراکین کو یوسی چیئرمین کے برابر اعزایہ دینے، میئر اور ڈپٹی میئر سیکریٹریٹ کے موجودہ ایمپریس اکائونٹ کی رقم میں اضافہ اورمیونسپل کمشنر سیکریٹریٹ کے موجودہ ایمپریس اکائونٹ کی رقم میں اضافے کی منظوری جبکہ کثرت رائے سے منظور ہونے والی قراردادوں میں لانڈھی ،ملیر اور بلدیہ مویشی منڈیوں کے قبضہ کی محکمہ ویٹرنری سروسز بلدیہ عظمیٰ کراچی کو منتقلی، میلیچنگ انیمل فیس کی وصولی کا اختیار بلدیہ عظمیٰ کراچی کو دینے،کیٹل پیٹرھی لانڈھی کی ویٹرنری ڈیپارٹمنٹ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو سپردگی،لیڈر آف دی ہائوس اور لیڈر آف دی اپوزیشن کے عہدوں پر متعین ممبران کونسل کو آفس کے لئے ضروری اشیاء کی فراہمی اوراختیارات برائے اسسٹنٹ کلکٹر گزیڈ (ون) سے متعلق سفارشات کی منظوری شامل ہیں۔اجلاس میں اسلم خان آفریدی،کرم اللہ وقاصی،فردوس شمیم نقوی،امان خان آفریدی، جنید میکاتی،اعجاز احمد، سید خلیل امام،تاج الدین صدیقی، کامریڈ جسکانی، شاہنواز جدون، عبدالرحیم شاہ، سید مزمل شاہ، سعید اللہ آفریدی،حنیف سورتی، راحت حسین صدیقی،منگلا شرما،غلام جونیجو، تنویر خان جدون، میر عبدالصمد اور دیگر نے اظہار خیال کیا۔ ڈپٹی میئر کراچی ڈاکٹر ارشد عبداللہ وہرہ نے کیٹل کالونی ، لانڈھی اور دیگر مقامات کے حوالے سے ممبران کی جانب سے توجہ دلانے پر کہا کہ اس شہر کی زمین یہاں کے عوام کی امانت ہے اور اس امانت کی ایک ایک انچ جگہ کی بھی حفاظت کی جائے گی اور عوام کی اس امانت کی حفاظت کے لئے ہماری جان بھی حاضرہے۔سٹی کونسل کے ایوان نے متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرارداد کے ذریعے جہاں ایک جانب وفاقی و صوبائی حکومت اور نیپرا سے کے۔ الیکٹرک کی کراچی کے عوام کے ساتھ زیادتیاں روکنے کی اپیل کی ہے وہیں دوسری جانب چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے حکومت کی ناکامی پر مختلف اقدامات کرنے کی بھی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیرف میں صارفین کو ریلیف دیا جائے اور ان کے بلوں میں واضح کمی کی جائے، کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے کیونکہ کراچی میں بجلی کی مطلوبہ طلب کے مطابق کے۔ الیکٹرک کے پاس بجلی کی پیداواری صلاحیت موجود ہے اس لئے وفاق سے 650 میگا واٹ ملنے والے سستی بجلی کا فائدہ صارفین کو منتقل کیا جائے۔ اراکین کونسل نے مزید کہا کہ اووربلنگ کا خاتمہ کیا جائے اور کے۔ الیکٹرک مراکز پر عوام کی تحقیر اور تذلیل کے بجائے عوام کی شکایت کے ازالے کے لئے تسلی بخش انتظامات کئے جائیں اور ہر آئی بی سینٹر پر وفاقی محتسب کے مجاز افسر کا تقرر کیا جائے۔اراکین نے مذکورہ قرارداد کے ذریعے مزید کہا کہ میٹر رینٹ کا فوری خاتمہ اور اس مد میں وصول کی جانے والی رقم صارفین کو واپس کی جائے۔صارفین پر بجلی چوری و دیگر الزام لگاکراضافی بل بھیجنے کا سلسلہ بھی بند کیا جائے ۔ اراکین نے قرارداد کے ذریعے مزید کہا کہ اووربلنگ اور دیگر زیر التوا شکایت کے ازالے کے لئے ٹریبونل قائم کیا جائے جو ہنگامی بنیادوں پر تین ماہ کے عرصے میں کام مکمل کرے ساتھ ہی ساتھ کے۔الیکٹرک کے ملازمین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ جنید میکاتی نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کی کے۔ الیکٹرک جب کے۔ای۔ایس ۔سی تھی تو حکومت اسے پانچ ارب کی سبسڈی دیتی تھی مگر اب پرائیویٹ ہونے کے بعد کے۔ الیکٹرک 75 ارب روپے کی سبسڈی لے رہاہے ۔اعجاز احمد نے کہا کہ کے الیکٹرک کے لوگوں کو یونین سازی کا حق دیا جائے تاکہ انہیں ملازمت سے نکالے جانے کا خوف نہ ہو۔تاج الدین صدیقی نے کہا کہ کے۔الیکٹرک کی زیادتیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے۔ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ ہم نجکاری کے خلاف نہیں بلکہ چوری کے خلاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ محض قرارداد کی منظوری سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ ایک سب کمیٹی بنائی جائے جو سپریم کورٹ تک جائے۔ کامریڈ جسکانی نے کہا کہ وہ معاہدہ بھی عوام کے سامنے لایا جائے جس کے تحت اسے پرائیویٹ کیا گیا ۔ شاہنواز جدون نے کہا کہ کے۔الیکٹر ک کے ذمہ داران کو بلا کر پوچھا جائے کہ وہ اوور بلنگ اور لوڈ شیڈنگ کیوں کررہے ہیں جبکہ کچی آبادیوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سا سلوک کیا جارہا ہے۔کرم اللہ وقاصی نے کہا کہ کراچی کے عوام پہلے ہی مختلف مسائل کا شکار ہیں ۔ ہم گذشتہ مہینوں میں اپنے ادارے کو مضبوط نہیں کرسکے۔انہوں نے کہا کہ کونسل کے اجلاس کے وقت محکمہ جاتی افسران کو موجود ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ گذشتہ ادوارمیں ایڈمنسٹریٹر زنے جس طرح اداروں کو چلایااس سے اداروں میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ وہ خراب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نظام کو درست کرنے آئے ہیں۔عبدالرحیم شاہ نے کہا کہ کیٹل کالونی میں مافیا کا قبضہ بھی ہے۔ یہ پیڑھی کے ایم سی کی ملکیت ہے اس کے کرائے کا حق بھی کے ایم سی کو ملنا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ مقام کی صفائی کرنے والے چھتیس لوگ ہیں جو اپنے کام پر نہیں آتے۔ لہذا ان کی تنخواہیں روکی جائیں۔ سید مزمل شاہ نے کہا کہ سلاٹر ہائوس بھی ایک اہم مسئلہ ہے لیکن فی الوقت ہمارے دفاتر ، عملہ اور ضروری دفتری سامان مہیا کیا جائے۔سعید اللہ آفریدی نے کہا کہ کچرااٹھانے کے لئے گاڑی اور ڈیزل کی کمی ہے۔ امان خان آفریدی نے کہا کہ بلدیہ غربی میں حالات سازگار نہیں، وسائل بھی موجود نہیں جبکہ چیئر مین اور وائس چیئرمین کو لڑانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میر عبدالصمد بروہی نے کہا کہ 36 پارکنگ سائیڈز کی بولی دیتے وقت کونسل کو اعتماد میں لیا جانا ضروری تھا۔ اسلم خان آفریدی نے کہا کہ جب پارکنگ کے حوالے سے نیلامی کی گئی تو قانون کے مطابق کی گئی جس نے سب سے زیادہ بولی دی اسے یہ ٹھیکہ دیا گیا جبکہ یہ پارکنگ ٹھیکہ صرف چار ماہ کی مدت کے لئے ہے۔  
     
     
 
News Photo Gallery
 
 
 
 
 
 
 
 
 

 
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard