Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کے پارلیمانی لیڈر اسلم شاہ آفرید ی نے اپوزیشن لیڈر کرم اللہ وقاصی کی حالیہ پریس کانفرنس میں میئر کراچی وسیم اختر پر اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترکر دیا-  
     
  27-Oct-2017  
     
   
     
  بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کے پارلیمانی لیڈر اسلم شاہ آفرید ی نے اپوزیشن لیڈر کرم اللہ وقاصی کی حالیہ پریس کانفرنس میں میئر کراچی وسیم اختر کی بطور رئیس بلدیہ ، اہلیت اور تجربے کے حوالے سے اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کراچی کے لاکھوں شہریوں کے مینڈیٹ کی کھلی توہین ہے جنہوں نے میئر کراچی کو اپنے ووٹوں کے ذریعے منتخب کیا ہے اور شہر کراچی کے مسائل کے حل کی ذمہ داری سونپی ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران سٹی کونسل کی اپوزیشن جماعتوں کو نظر انداز کرنے کا جو الزام عائد کیا گیا وہ بھی حقائق کے برخلاف ہے کیونکہ میئر کراچی وسیم اختر نے بحیثیت میئر اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سٹی کونسل کی تمام تمام اپوزیشن جماعتوں کے دفتر میں خود جا کر ان کے لیڈران سے ملاقات کی ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور شہر کے مسائل حل کرنے کے لئے اپنا ساتھ دینے کی درخواست کی تھی جس کا کراچی کی تمام ہی جماعتوں نے مثبت جواب دیا اور شہر کے مسائل حل کرنے میں اپنی تعاون کا یقین دلایاتھا ، بعدازاں سٹی کونسل کے اجلاسوں میں بھی میئر اور ڈپٹی میئر کراچی نے اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز بالخصوص قائد حزب اختلاف کو اپنی رائے کے اظہار کے بھرپور مواقع فراہم کئے اور سٹی کونسل کی کمیٹیوں کی تشکیل میں بھی ان سے مکمل مشاورت کے بعد مختلف کمیٹیوں کی تشکیل کی گئی انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو وفاقی حکومت کی جانب سے تعمیر شہر کے لئے ملنے والے 25 ارب کے پیکیج کے تحت وفاقی حکومت کو بھیجی گئی ترقیاتی اسکیموں میں اپوزیشن کو نظر انداز کرنے کا الزام بھی غلط فہمی پر مبنی ہے کیونکہ اس پیکیج میں شمولیت کے لئے جن ترقیاتی اسکیموں کو شامل کیا گیا ان میں شہر کے تمام علاقے شامل ہیں اور اس حوالے سے ہرگز کوئی جانبداری نہیں برتی گئی، یہ اس امر کا بھی ثبوت ہے کہ موجودہ بلدیاتی قیادت محض چند اضلاع کو نہیں بلکہ پورے کراچی اور اس کے تمام چھ اضلاع میں یکساں ترقیاتی کام کرانے میں یقین کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ میئر کراچی وسیم اختر پر اپنی بے اختیاری کا سیاسی رونا روتے رہنے کا الزام لگانے سے قبل خود کراچی کا ایک شہری ہونے کے ناطے قائد حزب اختلاف کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ کے موجودہ بلدیاتی اداروں کے تمام اختیارات حکومت سندھ نے اپنے متعارف کردہ SLGA-2013 میں ترامیم کے ذریعے مکمل طور پر سلب کررکھے ہیں اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کو جو فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں وہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے بھی ناکافی ہیں جبکہ تمام ترقیاتی بجٹ کہیں اور خرچ کیا جاتا ہے لہٰذا میئر کراچی اور بلدیاتی قیادت کو شہر کے موجودہ مسائل کا ذمہ دار ٹھہرانا سراسرناانصافی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جہاں تک گھوسٹ ملازمین کا سوال ہے آپ کو یہ علم ہونا چاہئے کہ میئر کراچی وسیم اختر نے اس سلسلے میں انتہائی سخت کارروائی کرتے ہوئے شعبہ سٹی وارڈن کے سو سے زائد اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے جبکہ مزید ایسے ملازمین کی کھوج لگا کر انہیں بھی فوری ملازمت سے برطرف کرنے کے احکامات صادر کئے چکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کی فنڈز میں سالانہ ترقیاتی کاموں کی فہرست بناتے وقت موجودہ بلدیاتی قیاد ت نے سٹی کو نسل کے جو اپنی یونین کمیٹی کے چیئرمین ہیں، ان کی تجاویز کو اولین دیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ علاقوں ترقیاتی کاموں کا پلان تیار کیا جس کے تحت مختلف جگہوں پر ترقیاتی کام جاری ہیں لہٰذا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی یونین کمیٹی چیئرمین کی سرپرستی نہیں کر رہی ۔انہوں نے کہاکہ گذری میٹرنٹی ہوم کی ڈاکٹر ناظمہ اسدکی ملازمت میں توسیع کے حوالے سے قائد حزب اختلاف نے جو بات کہی ہے وہ بالکل درست ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر ناظمہ اسد کی ملازمت میں جس توسیع کا ذکر کیا گیاہے وہ کے ایم سی کے سابقہ ایڈمنسٹریٹر کے زمانے میں ہوئیں جبکہ میئر کراچی وسیم اختر کو اپنا عہدہ سنبھالے صرف ایک سال ہوا ہے لہٰذا ان سلسلے میں ہونے والی بے قاعدگیوں کا الزام میئر کراچی کو نہیں دیا جاسکتا، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور شہر کراچی کو آج جن مسائل کا سامنا ہے اس کی بڑی وجہ گزشتہ آٹھ سال تک اس شہر میں بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی اور نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی سے گریز کے لئے صوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی ہے جس کے دوران ایک کے بعد دوسرا سرکاری آفیسر بطور ایڈمنسٹریٹر کراچی کے شہریوں پر مسلط کیا جاتا رہا جسے عوام کے مسائل سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف یہ رہا کہ اپنے دور میں حکام بالا کو خوش رکھنے کے ساتھ ساتھ ذاتی اغراض و مقاصد پر توجہ مرکوز رکھے چنانچہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بلدیاتی اداروں کے وجود کو تسلیم نہ کرنے والے لوگوں نے اس شہر کو کچرے کا ڈھیر بنا کر رکھ دیا جہاں ٹوٹی ہوئی سڑکیں ،ناقص پانی و سیوریج کا نظام شہریوں کا مقدر بن گیا تھا۔اب جبکہ بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں منتخب بلدیاتی قیادت کو اختیارات سنبھالے ہوئے محض ایک سال ہوا ہے اسے شہر کی تباہی و بربادی کے لئے موردالزام ٹھہرانا حقائق کو مسخ کرنے کا سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میئر کراچی وسیم اختر اور موجودہ بلدیاتی قیادت نے صرف اپنی بے اختیاری کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول نہیں کرائی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہمت نہ ہارتے ہوئے شہر کے مسائل کو اپنے وسائل میں رہتے ہوئے حل کرنے کی جانب قدم بڑھائے ہیں اور مسلسل یہ کوششیں جاری ہیں جس کے لئے صوبائی اور وفاقی حکومت کے علاوہ نجی اداروں سے بھی تعاون کے حصول کی کوششیں سب کے سامنے ہیں۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard