Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ مردم شماری کے طریقہ کار اور نتائج کو ہم تسلیم نہیں کرتے، اس پر ہمارے تحفظات ہیں -  
     
  02-Nov-2017  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ مردم شماری جس طرح کی گئی اور سندھ اور کراچی کی آبادی کو کم کرکے دکھایا گیا ہے وہ صوبے اور شہر کے ساتھ ناانصافی ہے اس مردم شماری کے طریقہ کار اور نتائج کو ہم تسلیم نہیں کرتے، اس پر ہمارے تحفظات ہیں ، عدالت عالیہ اس سلسلے میں جلد فیصلہ دے ، مردم شماری کی بنیاد پر کسی بھی صوبے یا شہر کا بجٹ بنایا جاتا ہے اور انتخابات کے لئے سیٹیں مقرر کی جاتی ہیں اگر ہماری بات نہ مانی گئی تو مزید لوگوں کو لے کر عدالت جائیں گے، میں عدلیہ ، وفاقی حکومت اور چیف آف آرمی اسٹاف سے درخواست کروں گا کہ اس نا انصافی کا فوری نوٹس لیں اور مردم شماری پر نظرثانی کی جائے یہ بات انہوں نے مردم شماری کے نتائج کے خلاف لیاقت آباد میں ہونے والے جلسے کے سلسلے میں ناظم آباد خلافت چوک میں عوامی رابطہ مہم سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر ضلع وسطی کے چیئرمین ریحان ہاشمی، پارکس کمیٹی کے چیئرمین اعجاز احمد خان اور دیگر منتخب بلدیاتی نمائندے بھی موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ 70 سال گزر جانے کے باوجود ہم صحیح طریقے سے مردم شماری نہیں کرپائے اور ملک کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں، ہمارا ملک اس مردم شماری کے نتائج پر بھلا کیا منصوبہ سازی کرے گا، مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر ہی مالیات ، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے ، کراچی کی آبادی کو آدھا دکھا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں، پورے ملک میں سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں پر کام ہو رہا ہے لیکن غلط نتائج کی وجہ سے ہم اپنے شہریوں کو ان کی تعداد کے مطابق کس طرح سہولیات فراہم کریں گے،انہوں نے کہا کہ 5 نومبر کو بھرپور طریقے سے احتجاج کیا جائے گا، یہ احتجاج کسی پارٹی کا نہیں بلکہ کراچی کے شہریوں کی مجموعی آواز ہے اس احتجاج میں ہر شخص شرکت کرسکتا ہے ، چاہے اس کا تعلق کسی بھی جماعت یا مذہب یا فرقے سے ہو کیونکہ یہ احتجاج کراچی اور صوبے کی بہتری کے لئے ہے ، میئر کراچی نے کہا کہ کراچی پورے ملک کے لئے بجٹ فراہم کرتاہے اور اسی شاخ کو کاٹا جا رہا ہے جس پر بیٹھے ہوئے ہیں اس لئے بہتر ہوگا کہ زمینی حقائق کو تسلیم کیا جائے اور صحیح اعداد و شمار سامنے لائے جائیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پارٹی کا اسٹرکچر بہت مضبوط ہے جو ساتھی جا رہے ہیں وہ دبائو کا شکار ہیں ، ہمارا ووٹ بینک قائم ہے ، کراچی کے شہری ہم پر اعتبار کرتے ہیں ، 2018 ء کے الیکشن میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آجائے گا، مردم شماری پر صوبہ سندھ ہی نہیں دیگر صوبوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے، خدارا غلط پالیسیوں کو چھوڑیں اور تمام صوبوں اور شہروں کو ان کا جائز حق دیں اگر آئندہ ایسا نہ کیا گیا تو احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوگا اور اس کے نتائج شہر پر نہیں پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے ضمنی اعداد و شمار جاری کئے گئے ہیں اب تک حتمی نتائج سامنے نہیں لائے گئے یہ صرف ایم کیو ایم کا مسئلہ نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے اور مردم شماری کے حوالے سے تمام صوبوں کے تحفظات کو دور کرنا ہوگا۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard