Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی گزشتہ دس سالہ کارکردگی ان کی نااہلی اور بیڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے، یہ سندھ حکومت کی ہی کارکردگی ہے کہ کراچی کے لوگ پانی کو ترس رہے ہیں-  
     
  01-May-2018  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی گزشتہ دس سالہ کارکردگی ان کی نااہلی اور بیڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے، یہ سندھ حکومت کی ہی کارکردگی ہے کہ کراچی کے لوگ پانی کو ترس رہے ہیں، سیوریج سسٹم تباہ و برباد ہے، کراچی میں کچرے کے انبار ہیں اور بلاول بھٹو زرداری 5 ارب روپے کے حساب کی بات کررہے ہیں، ان کی حکومت سندھ کے گزشتہ دس سال کے 5 ہزار ارب روپے کا حساب کون دے گا، مجھ سمیت پورا سندھ ان سے حساب مانگ رہا ہے، ایک بڑی سیاسی رہنما کے صاحبزادے ہونے کے ناطے انہیں یہ بات زیب نہیں دیتیں، انہیں اپنی تقریر میں اپنی پارٹی کا منشور ، قومی پالیسی ، بجٹ اور دیگر عالمی اور بین الاقوامی مسائل پر گفتگو کرنی چاہئے نہ کہ وہ بلدیاتی سطح پر آکر گفتگو کریں، میئر کراچی نے کہا کہ بلاول بھٹو اس وقت کہاں تھے جب طارق روڈ، یونیورسٹی روڈ اور جہانگیر پارک کا افتتاح ہو رہا تھا، اس وقت انہیں میئر کراچی کیوں یاد نہیں آیا، انہیں پوچھنا چاہئے تھا کہ یہ بلدیاتی کام حکومت سندھ کیوں کر رہی ہے، کیا یہ بلدیاتی نظام کو ناکام کرنے کی کوشش تو نہیں، واٹر بورڈ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کے ڈی اے پر سندھ حکومت مسلط ہے اور انہیں اداروں کی کارکردگی بھی سب پر عیاں ہے،میئر کراچی نے کہا کہ بلدیاتی نظام آنے سے قبل دس سال تک پیپلزپارٹی کے مقرر کئے گئے ایڈمنسٹریٹر نے کے ایم سی کو چلایا اور وہ ادارے کو اس سطح پر لے آئے کہ آج تنخواہیں دینے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں، اسپتالوں کا بیڑا غرق کردیا گیا، جب میں نے چارج سنبھالا تو عباسی شہید اسپتال میں نہ آکسیجن تھا اور نہ ہی ادویات تھیں، آپریشن ہال کے دروازے تک ٹوٹے ہوئے تھے، انہوں نے کہا کہ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی ابھی پرورش ہو رہی ہے اور وہ سیکھنے کے عمل میں ہیں لیکن انہیں لکھی ہوئی تقریر کو پہلے سمجھ لینا چاہئے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کی دوپہر یوسی 12- مجیب النساء سیکٹر F-11، نیوکراچی میں وارڈ 4 میں سڑک کی استرکاری کے کام کا معائنہ کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن، ضلع وسطی کے وائس چیئرمین سید شاکر علی ، ریکریشن کمیٹی اور یوسی12 کے چیئرمین حنیف سورتی سمیت منتخب نمائندے اور کے ایم سی افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی وسیم اختر کی آمد کے موقع پر گودھرا برادری سیکٹر 11 کے صدر محمد سلطان اور سیکٹر 11-G کے صدر حاجی محمد اقبال سمیت عوام کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا، اس موقع پر علاقہ مکینوں نے میئر کراچی کو اپنے مسائل سے بھی آگاہ کیا، علاقہ مکینوں نے علاقے میں پانی کی کمی کے حوالے سے میئر کراچی کو بتایا ،اس موقع پر میئر کراچی وسیم اختر نے واٹر بورڈ کے اعلیٰ حکام سے فوری طور پر رابطہ کیا اور علاقے میں پانی کی کمی سے متعلق انہیں آگاہ کیا، میئر کراچی نے واٹر بورڈ کے اعلیٰ حکام سے چیئرمین حنیف سورتی اور گودھرا برادری کے صدورکی ملاقات بھی طے کرائی تاکہ مسئلے کا حل نکالا جاسکے، سڑک کی استرکاری کا معائنہ کرنے کے موقع پر میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ شہر بھر میں سڑکوں اور گلیوں کا برا حال ہے گزشتہ ادوار میں کام نہ کئے جانے کے باعث آج شہر کی گلی اور سڑکیں تباہ حالی کی صورت میں نظر آرہی ہیں، انہوں نے کہا کہ 25 لاکھ روپے کی رقم اتنی زیادہ نہیں ہے کہ علاقے کے سارے ہی مسائل حل کرلئے جائیں مگر اس کے باوجود تمام چیئرمینز نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ فراہم کی گئی رقم ترقیاتی کاموں پر صرف کی جائے، انہوں نے کہا کہ کراچی کو بڑے بجٹ اور منصوبوں کی ضرورت ہے، چھوٹے پیکیجز سے اس شہر کے مسائل حل نہیں ہوسکتے، انہوں نے کہا کہ یہ بلدیاتی نمائندوں کی ہمت اور عزم ہے کہ وہ نامساعد حالات میں بھی کام کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ حکومت بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے ضرور ایسے اقدامات اٹھائے گی کہ جس کے باعث بلدیاتی نمائندے آسانی کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں کے تمام مسائل کو حل کرسکیں، انہوں نے کہا کہ پانی اور سڑکوں کی تباہ حالی تقریباً ہر علاقے کا مسئلہ ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان مسائل کو حل کریں مگر ہماری مجبوری یہ بھی ہے کہ پانی کی فراہمی کا ذمہ دار ادارہ واٹر بورڈ ہمارے دائرہ اختیار میں ہی نہیںلہٰذا حکومت سندھ کو چاہئے کہ شہر کے وہ علاقے جہاں پانی کی شدید قلت ہے اسے دور کرنے کے لئے تمام اقدامات بروئے کار لائیں تاکہ لوگوں کو اس سخت گرمی میں پانی کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard