Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ خواتین ہماری آبادی کا نصف حصہ ہیں ان کو ترقی کے سفر میں شامل کئے اور ان کے حقوق کا تحفظ کئے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا-  
     
  18-Dec-2018  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ خواتین ہماری آبادی کا نصف حصہ ہیں ان کو ترقی کے سفر میں شامل کئے اور ان کے حقوق کا تحفظ کئے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا اب دنیا بہت آگے نکل گئی ہے اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا اور اگر کوئی بھی طاقتور شخص خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کرتا ہے تو پورے معاشرے کو اس کے سامنے کھڑا ہونا چاہئے آج دنیا جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے آواز اٹھا رہی ہے اور ہمارے معاشرے میں انسانوں کے مختلف طبقات اپنے حقوق مانگ رہے ہیں یہ معاشرتی المیہ ہے ، گھروں میں ملازم خواتین اور دیہی علاقوں میں ہاریوں کے ساتھ ناروا سلوک کی خبریں دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، مختلف ایوانوں میں عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ان کو اپنے حقوق کے لئے بھرپور آواز اٹھانی چاہئے، ہم عورتوں کو معاشرے کا اہم حصہ سمجھیں گے تو جلد ترقی کریں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف امیج مینجمنٹ (CIIM) اور پاکستان کونسل آف میڈیا وویمن کے اشتراک سے کے ایم سی صدر دفتر میں منعقدہ ’’جنسی ہراسگی اور اس سے کیسے نمٹیں‘‘کے موضوع پر خواتین صحافیوں کے لئے ایک روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سینئر صحافی محمود شام، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر جی ایم جمالی، ممتاز ڈرامہ رائٹر نور الہدیٰ شاہ ، ڈی آئی جی پولیس ڈاکٹر امیر شیخ ، بانی صدر پی سی ایم ڈبلیو حمیرا موتالا، ڈائریکٹر (CIIM) محمد شاہد، مختلف ٹی وی چینلز کی اینکرپرسنز اور خواتین صحافیوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ خواتین کے ساتھ ماضی میں بھی زیادتیاں اور ناروا سلوک ہوتا رہا ہے تاہم وہ اس پر خاموش رہیں مگر اب یہ اچھی بات ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے غیرجانبدارانہ سلوک اور جنسی ہراسگی کے خلاف بولنا شروع کردیا ہے، آج کی عورت پہلے سے کہیں زیادہ دلیر ہوچکی ہے، خواتین کے ساتھ زیادتی کے معاملات پر صحتمند مباحثے آئندہ نسلوں تک ایک مضبوط پیغام پہنچا سکتے ہیں، ہمارے ملک میں خاص طور پر ملک کے اندرونی علاقوں اور مضافات میں خواتین کے ساتھ غلط سلوک کے واقعات ہوئے ہیں جنہیں اب روکنا ہوگا، گھروں میں چھوٹی بچیوں سے کام نہیں لینا چاہئے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ عورتوں کے ساتھ ناروا سلوک اور غلط برتائو کے خلاف اپنا کردار ادا کریں، ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی محمود شام نے کہا کہ مرد اور عورت دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان دونوں میں جنسی تفریق معاشرے اور طرز رہائش کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جنوبی ایشیا کو پسماندہ معاشرہ کہا جاتا ہے مگر یہاں بھارت ہو یا پاکستان ، سری لنکا اور بنگلہ دیش تک میں خواتین حکمراں بنی ہیں لہٰذا خواتین کو کمزور کہنا درست نہیں البتہ سرداری اور جاگیرداری نظام کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں عورت کو اجناس سمجھ لیا گیا ہے جبکہ ہمارے خواتین میں صلاحیت کی کمی نہیں ہے اور ہر شعبے میں وہ خود کو منوا سکتی ہیں، نورالہدیٰ شاہ ، جی ایم جمالی، نزہت شیریں، نسرین پرویز، عاصمہ زہرا، ماریہ میمن، تبسم زہرا، مایا خان اور دیگر مقررین نے خواتین صحافیوں پر زور دیا کہ وہ جہاں بھی کام کر رہی ہیں وہاں اپنے لئے عزت و احترام حاصل کریں اور اپنے مثبت رویے کی بنیاد پر اپنی حیثیت اور شناخت بنائیں، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں خواتین کے تحفظ کے لئے قوانین موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا، خواتین پر نامناسب تنقید بھی ہراساں کرنے کی ایک قسم ہے، ہر عورت جانتی ہے کہ اسے اپنے ساتھ ہونے والے غلط سلوک کا جواب کیسے دینا ہے لہٰذا جنسی ہراسگی کو ابتدائی مرحلے پر ہی روک دینا چاہئے، مغربی معاشرے میں بھی عورت نے اپنے لئے باعزت مقام محنت سے حاصل کیا، یہاں بھی اگر خواتین کوشش کریں تو ان کے لئے آگے بڑھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں، میڈیا چینلز اپنے ہاں خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور ہراسگی سے تحفظ کے لئے کمیٹی تشکیل دیں، بعدازاں ورکشاپ میں سوال و جواب کا سیشن شروع ہوا جس کے دوران خواتین صحافیوں نے اپنے تجربات بیان کئے اور مختلف سوالات کئے جن کے جوابات سینئر صحافی محمود شام ، نورالہدیٰ شاہ ، حمیرا موتالا اور دیگر نے دیئے، آخر میں مہمان خصوصی ڈی آئی جی پولیس ڈاکٹر امیر شیخ اور سینئر صحافی محمود شام نے ورکشاپ کی شرکاء میں تربیتی اسناد تقسیم کیں۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard