Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ سیاسی انجینئرنگ اور ایڈونچر ازم کے خاتمے تک کوئی اربن ڈویلپمنٹ ، ہیلتھ یا فنانس پالیسی نہیں بن سکتی، آبادی کو کم ظاہر کرنے سے سی پیک بھی متاثر ہوگا-  
     
  23-Dec-2018  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ سیاسی انجینئرنگ اور ایڈونچر ازم کے خاتمے تک کوئی اربن ڈویلپمنٹ ، ہیلتھ یا فنانس پالیسی نہیں بن سکتی، آبادی کو کم ظاہر کرنے سے سی پیک بھی متاثر ہوگا، کراچی پورے ملک کی معیشت کو چلا رہا ہے اس کے لئے غیرمعمولی پالیسی بننی چاہئے، وزیراعظم، چیف جسٹس، چیف آف آرمی اسٹاف مل کر کراچی کے مسائل کا حل نکالیں، کراچی بہتر ہوگا تو پورے ملک کو اس سے فائدہ ہوگا،شہر کا ماسٹر پلان کے ایم سی کے تحت ہونا چاہئے، کراچی کی بہتری کیلئے صوبائی اور وفاقی حکومت سے ہر وقت مشاورت کیلئے تیار ہیں، سول سروسز افسران خود کو سیاسی دبائو سے آزاد رکھ کر ملک کی بہتری کے لئے کام کریں اور سیاسی نمائندوں کو غلط کام سے روکیں، بحیثیت میئر میعادختم ہونے سے پہلے بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تو شہر کی بہتری کیلئے اس پر تیار ہوں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سروسز اکیڈمی لاہور کے 41ویں اسپیشلائیزڈ ٹریننگ پروگرام برائے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے شرکاء پر مشتمل 55 رکنی وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس نے بدھ کی صبح بلدیہ عظمیٰ کراچی کے صدر دفتر کا دورہ کیا اور میئر کراچی سے ملاقات کی، اس موقع پر میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن مسعود عالم اور دیگر افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی وسیم اختر نے وفد کو کراچی آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی ادارے ہی جمہوریت کی بنیادی نرسری ہیں اور شہری مسائل کے حل کی اہلیت بھی انہی کے پاس ہے جبکہ صوبائی حکومت کا کام صرف قانون سازی ہے، بہتر نتائج کے لئے اختیارات نچلی سطح پر ہونا چاہئیں، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی محدود وسائل کے باوجود 3 کروڑ سے زائد آبادی کے شہر کو بنیادی شہری سہولیات فراہم کر رہی ہے تاہم اسے مشکلات کا سامنا ہے ، سپریم کورٹ کی ہدایات پر بلدیاتی انتخابات کرائے دیئے گئے مگر اختیار نہیں دیا گیا جبکہ دنیا بھر میں بلدیاتی اداروں کو مستحکم بنایا گیا ہے، ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق کراچی کو 10 سال کے لئے10 ملین ڈالر درکار ہیں جب تک وسائل نہیں ملتے ، شہری مسائل کو مکمل طور پر حل نہیں کیا جاسکتا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تحلیل شدہ محکمے اگر واپس مل جائیں تو اس سے ریونیو میں اضافہ ہوگا، آکٹرائے کی مد میں فنڈز باقاعدگی سے ریلیز ہوں تو کے ایم سی اور ڈی ایم سیز اپنے طور پر بہت سے منصوبے بنا سکتی ہیں، بیٹرمنٹ ٹیکس اور کمرشلائزیشن چارجز سمیت مختلف مدات میں رقوم فراہم کی جانی چاہئیں، وسائل میسر آئیں تو اولین ترجیح شہر میں فراہمی آب کا نظام ٹھیک کرنا ہوگا جس کے بعد سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ، سیوریج نظام اور اسپتالوں کی حالت کو بہتر بنائیں گے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ مردم شماری میں کراچی کے ساتھ زیادتی ہوئی اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرچکے ہیں، شہر اور صوبے کی بہتری کے لئے موجودہ حکومت کا ساتھ دیا مگر اب سیاست سے بالاتر ہوکر کام کرنا ہوگا، تجاوزات کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ایک سوال پر میئر کراچی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تحت تمام متعلقہ اداروں کو ایک پیج پر لایا گیا اور کے ایم سی کو اختیار ملا تو سب سے دیکھا کہ شہر میں فٹ پاتھوں ،پارکس اور نالوں پر 40 ،45 سال سے قائم تجاوزات کا کس طرح خاتمہ کیا گیا ، ماضی میں کراچی کو بری طرح نظر انداز کیا گیا جبکہ تجاوزات مافیا نے شہر کے کونے کونے میں اپنے قدم جما لئے تھے، یہاں تک کہ دو بڑے مارشل لاء بھی انہیں نہ ہٹاسکے، سپریم کورٹ اور دیگر اداروں سے اگر اسی طرح سپورٹ ملتی رہی تو شہر کی حالت بہتر بنا دیں گے، کراچی کا بنیادی انفراسٹرکچر بہتر ہوجائے تو غیرملکی سرمایہ کار یہاں آنے کے لئے تیار ہیں ، انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ صرف ترقیاتی کاموں میں ہی لگنا چاہئے، بدقسمتی سے کراچی سمیت پورے سندھ میں کہیں بھی ترقیاتی کام ہوتے نظر نہیں آئے، سیاسی پارٹیاں اگر سیاست سے بالاتر ہو کر لوگوں کے بنیادی مسائل حل کرنے پر آمادہ ہوں تو تبدیلی آسکتی ہے، کرپشن کے خاتمے کے لئے رولز میں ترامیم کرناہوں گی، ترقیاتی کاموں کی رفتار کو بڑھائے بغیر کارکردگی میں بہتری لانا ممکن نہیں، آخر میں وفد کے سربراہ نے میئر کراچی وسیم اختر کو سول سروسز اکیڈمی لاہور کی طرف سے شیلڈ پیش کی جبکہ میئر کراچی نے انہیں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے شیلڈ دی۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard